الفتح الربانی
كتاب الادب— آداب کی کتاب
باب مَا جَاءَ فِي التَّناوُبِ وَآدَابِهِ باب: جمائی، چھینک اور ان کے آداب کے ابواب¤جمائی اور ان کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 8232
عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ فِي فِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آ جائے تو وہ حسب ِ استطاعت اس کو روکے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر آدمی ہونٹ بند کر کے ناک سے سانس لے تو جمائی رک جاتی ہے۔