الفتح الربانی
كتاب الادب— آداب کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْلِيمِ الْأَظافِرِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَانْقَاءِ الرَّوَاحِب باب: ناخن تراشنے، زیرِ ناف بال مونڈنے اور انگلیوں کے جوڑوں کو صاف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8218
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سے ملاقات کرنے میں جبریل علیہ السلام نے تاخیر کر دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دیر کیوں نہ کریں، جبکہ تم میرے ارد گرد ہو، نہ تو تم مسواک کرتے ہو،نہ ناخن تراشتے ہو،نہ مونچھیں کاٹتے ہو اور نہ انگلیوں کی گرہوں کواچھی طرح دھوتے ہو۔