حدیث نمبر: 8216
عَنْ أَبِي وَاصِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَافَحَنِي فَرَأَى فِي أَظْفَارِي طُولًا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ أَحَدُكُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَهُوَ يَدَعُ أَظْفَارَهُ كَأَظَافِرِ الطَّيْرِ يَجْتَمِعُ فِيهَا الْجَنَابَةُ وَالْخَبَثُ وَالتَّفَثُ وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ مَرَّةً الْأَنْصَارِيَّ قَالَ غَيْرُهُ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبِي سَبَقَهُ لِسَانُهُ يَعْنِي وَكِيعًا فَقَالَ لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَإِنَّمَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ الْعَتَكِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو واصل کہتے ہیں: میں سیدنا ابو ایوب انصاری سے ملا،انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جب میرے لمبے ناخن دیکھے تو کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم باتیں تو آسمان کی پوچھتے ہو، لیکن ناخن پرندوں کے ناخنوں کی مانند لمبے لمبے رکھتے ہو، ان میں جنابت، خباثت اور میل کچیل جمع ہو جاتی ہے۔ وکیع نے ایک بار ابو ایوب کے نام کے ساتھ انصاری کا لفظ نہیں کہا اور دوسرے راویوں نے ابو ایوب عتکی کہا ہے، ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ نے کہا: امام وکیع سے سبقت لسانی ہو گئی اور انھوں نے کہہ دیا کہ میں ابو ایوب انصاری کو ملا ہوں، جبکہ یہ تو ابو ایوب عتکی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … آسمان کی باتیں پوچھنے سے مراد شرعی حکم دریافت کرنا ہے، گویا کہ اس حدیث میں طنز کیا جا رہا ہے کہ شریعت کے مسائل ا س کو دریافت کرنے چاہئیں جو شرعی احکام پر عمل کر رہا ہو، یعنی عملی طور پر بھی شریعت کا پابند ہونا چاہیے اور مسائل بھی دریافت کرنے چاہئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8216
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي واصل، ثم انه مرسل، فان ابا ايوب ھذا ليس ھو الانصاري الصحابي فيما قاله غير واحد من اھل العلم، بل ھو تابعي ثقة، أخرجه الطيالسي: 599، والبيھقي: 1/ 175، والطبراني: 4086 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23938»