حدیث نمبر: 8207
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قربان گاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا، قریش کا ایک اور آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانی کے جانور تقسیم کر رہے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کا جانور لیا اور نہ اس آدمی نے لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک منڈوایا اور بال ایک کپڑے میں جمع کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھی کو وہ بال دئیے، اس نے انہیں کچھ آدمیوں میں تقسیم کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ناخن بھی ترشوا کر اپنے ساتھی کو دئیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ بال ابھی تک ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ میں رنگے ہوئے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8207
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة: 2932، والحاكم: 1/ 475 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16588»