حدیث نمبر: 8206
عَنْ حُمَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ خَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَرَ مِنَ الشَّيْبِ إِلَّا نَحْوًا مِنْ سَبْعَ عَشْرَةَ أَوْ عِشْرِينَ شَعْرَةً فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ وَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَشِنْ بِالشَّيْبِ فَقِيلَ لِأَنَسٍ أَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ وَلَكِنْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَخَضَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالوں کو رنگتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی مبارک کے شروع میں سترہ یا بیس سے زیادہ سفید بال نظر نہیں آتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑھاپے کے سفید بالوں کے عیب سے پاک رہے ہیں۔ کسی نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا بڑھاپے کے سفید بال عیب ہیں؟ انھوں نے کہا: بس تم اس کو پسند نہیں کرتے، البتہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ مہندی اور وسمہ سے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہندی سے بالوں کو رنگ کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سفید بال مسلمان کے لیے نور اور وقار ہیں، عیب ہونے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بال کالے رہیں اور سفید نہ ہوں، یا سفید بالوں کا سفید باقی رہنا عیب ہے، یعنی مہندی وغیرہ کے ذریعے ان کی سفیدی کو تبدیل کر دینا چاہیے، تاکہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے، جیسا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جن کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سفیدی کو بدل دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8206
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5894، ومسلم: 2341 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12859»