حدیث نمبر: 8205
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَخِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَأَخِي مَخْضُوبٌ بِالصُّفْرَةِ فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ هَذَا خِضَابُ الْإِسْلَامِ وَقَالَ لِأَخِي رَافِعٍ هَذَا خِضَابُ الْإِيمَانِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اور میرا بھائی رافع بن عمرو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے بالوں کو مہندی کے ساتھ اورمیرے بھائی نے زرد رنگ کے ساتھ بالوں کو رنگا ہوا تھا۔ مجھ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ اسلامی رنگ ہے، اور میرے بھائی رافع سے کہا: یہ ایمانی رنگ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ زرد رنگ مہندی سے افضل ہے، کیونکہ ایمان کا مرتبہ اسلام سے زیادہ ہے، لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8205
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن عبد الله الازدي، وضعف ابنه عبد الصمد بن حبيب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20936»