حدیث نمبر: 8200
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْأَمْرُ بِالْأَصْبَاغِ فَأَحْلَكُهَا أَحَبُّ إِلَيْنَا قَالَ مَعْمَرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَخْضِبُ بِالسَّوَادِ (مسند أحمد:)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ بالوں کو نہیں رنگتے تم ان کی مخالفت کرو۔ امام زہری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رنگنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے سخت سیاہ رنگ سب سے زیادہ پسند ہے، امام زہری خود سیاہ رنگ لگاتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو رنگنے کی اصل وجہ اور علت یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان اہل کتاب کے مخالفت کرنے میں مبالغہ سے کام لیتے تھے، اس علت اور وجہ کی بنا پر بالوںکو رنگنا مستحب اور مؤکد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8200
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 8/ 137 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8083 ترقیم بيت الأفكار الدولية:»