حدیث نمبر: 8192
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بِتُّ وَفِي رِوَايَةٍ ضِفْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ فَجَاءَ بِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ وَقَالَ مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ قَالَ وَكَانَ شَارِبِي وَفِي فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ أَوْ قَالَ أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بطور مہمان ٹھہرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کے پہلو کے گوشت کے متعلق حکم دیا تو اسے بھونا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری لی اور میرے لئے اس گوشت سے کاٹنے لگ گئے، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھری وہیں رکھ دی اور فرمایا: بلال کے ہاتھ خاک آلود ہوں (ذرا اور ٹھہر جاتا تو کیا ہو جاتا) سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نیچے مسواک رکھ کر انہیں کاٹ دیا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو مسواک پر کاٹتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس کاطریقہ یہ ہو گا کہ ہونٹ کے پاس بالوں کے نیچے مسواک رکھ کر قینچی سے بال کاٹ لیے جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الادب / حدیث: 8192
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 188 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18425»