حدیث نمبر: 8164
عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ فَقِيلَ لِي إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ عَادَ بِخَيْرٍ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم چھوٹے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے موقع پر ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعاء کرتے تھے، ایک دن آپ تشریف لائے تو میرے دائیں بائیں جو بچے تھے، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور مجھے چھوڑ دیا، وجہ یہ تھی کہ میں اپنی بہن کے ہاں گیا تھا، اس نے مجھے زرد رنگ لگا دیا تھا، مجھ سے کسی نے کہا: تیرے چہرے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ تیرے چہرے پر یہ رنگ لگا ہوا ہے، پس میں ایک کنویں کیا طرف گیا، اس میں اترا اور غسل کیا، پھر میں دوسری نماز میں حاضر ہواتو میرے پاس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزرے اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعاء کی اور فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)

(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ اغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ بِخَلُوقٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا يَعْلَى مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ أَتَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ لِي اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ قَالَ فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگا لی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرا کرتے تھے، جب میرے قریب آئے تو آپ نے خلوق سے اپنے ہاتھ کو نہ لگنے دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: اے یعلی! یہ خلوق کیوں لگائی ہے؟ کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں، شادی تو نہیںکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جا اور اسے دھو دے۔ پس میں ایک کنوئیں کی طرف گیا، اس میں اترا اور مٹی سے مل مل کر خلوق کو دھو ڈالا، یہاں تک کہ اس کے نشانات ختم ہو گئے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: یعلی بہترین دین کے ساتھ لوٹا ہے اور اس کی توبہ سے آسمان بھی روشن ہوگیا ہے ( یعنی آسمان کے فرشتے خوش ہوئے ہیں۔)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8164
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن يعلي: اما ان يكون عبد الله واما عثمان، وعبد الله بن يعلي، قال البخاري: فيه نظر، وأما عثمان فھو مجھول، ويونس بن خباب قد ضُعِّف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17693»