حدیث نمبر: 8144
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُمْ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جہنم میں جانے والے دو قسم کے لوگ ابھی تک نہیں دیکھے۔ (۱)وہ لوگ جن کے پاس گائیوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوتے ہیں اور وہ ان سے لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں۔ اور(۲) وہ عورتیں جو لباس میں ملبوس ہونے کے باوجود ننگی ہوتی ہیں، لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہیں اور خود ان کی طرف مائل ہو تی ہیں، اس کے سر بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو پائیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو بہت دور سے محسوس کی جاتی ہے ۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگوں کی یہ اقسام کالعدم تھیں، لیکن آجکل ایسے معلوم ہوتا ہے کہ روئے زمین پر صرف یہی دو قسمیں بستی ہیں۔ ہر طرف بے پردگی ہے، نیم برہنہ نسوانی جسموں کا بھوت رقص کناں ہے، بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی و بدکاری کے اسباب دستیاب ہیں، عورتوں نے دو دو چار چار ہزار کی پوشاکیں زیب تن کر رکھی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ بے پردہ ہیں، چہروں کو یوں رنگ و روغن کیا ہوا ہوتا ہے کہ جنسی بے راہ روی میں مبتلا انسانی بھیڑیوں کی نگاہیں جم جاتی ہیں۔ والدین کی غیرت و حمیت کا جنازہ اٹھ گیا کہ ان کی بیٹیاں بازاریوں سے ناک کان چھدوا رہی ہیں، چوڑیاں فٹ کر وا رہی ہیں اور اپنے بازؤوں پر مہندی کے ڈیزائن بنوا رہی ہیں۔ العیاذ باللہ۔ یہ وہ قسم ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نظر نہیں آتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8144
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8650»