حدیث نمبر: 8143
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ الْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے، ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی، ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں، ان پر لعنت کرنا۔ اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّ اتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے، سرکے بالوں کے بھی بڑے بڑے سٹائل عام ہو گئے ہیں، شیمپو سے دھو کر ان کو نرم کیا جاتا ہے، کوئی جوڑا بناتی، کوئی ہیئر کیچر، کلپ اور پونی وغیرہ لگا کر سٹائل بناتی ہے، اگر بال کم ہوں تو ان کو زیادہ ظاہر کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے ہیں، دوپٹہ ہونے کے باوجود یوں لگتا ہے، جیسے سر کی پچھلی طرف کوہان نکلی ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8143
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الحاكم: 4/ 436، الطبراني في الصغير : 1125، وابن حبان: 5753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7083»