حدیث نمبر: 8141
عَنِ ابْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً كَانَتْ مِمَّا أَهْدَاهَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسِ الْقُبْطِيَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی موٹی چادر دی، جو آپ کو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ہدیہ میں دی تھی، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسامہ! کیا وجہ ہے کہ تونے وہ قبطی چادر نہیں پہنی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ میں نے اپنی بیوی کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دے کہ اس کے نیچے شمیز پہنے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ اس کے بدن کوواضح نہ کر دے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ عورت کا لباس باریک نہیں ہونا چاہیے، اگر ایسا ہو تو پردہ کرنے کے لیے اس کے نیچے اور لباس پہنا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8141
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث محتمل للتحسين، أخرجه ابن ابي شيبة في مسنده ، والبيھقي: 2/ 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22129»