حدیث نمبر: 8140
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَقَالَ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حمید بن عبدالرحمن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، انھوں نے کہا: اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو اسرائیل کو اس وقت عذاب دیا گیا، جس وقت ان کی عورتوں نے اس قسم کے بالوں کے گچھے استعمال کرنا شروع کیے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت اور ان کے آخری حج کی بات ہے، اس موقع پر وہ مدینہ منورہ میں بھی حاضر ہوئے تھے، دوران خطبہ کوئی چیز لوگوں کو دکھانے کے لیے ہاتھ میں پکڑی جا سکتی ہے، نیز بنو اسرائیل یا دیگر اقوام کی ہلاکت و تباہی کے واقعات عبرت کے لیے بیان کیے جا سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی نافرمانی کا نتیجہ کس قدر خطرناک اور تباہ کن ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3468، ومسلم: 2127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16990»