الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي وَصْلِ الشَّعْرِ وَالدُّهَنِ باب: خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب¤بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 8139
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منبر یا مدینہ منورہ کے منبر پر خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھا نکالا اور اس کے بارے میں کہا: مجھے اتنا پتہ نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی یہ کام کرتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جھوٹ قرار دیا ہے۔