حدیث نمبر: 8138
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزَّوَرَ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ فَقَالَ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قَتَادَةُ هُوَ مَا تُكْثِرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ایک دن کہا: تم نے بری عادت ایجاد کرلی ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، ایک آدمی ایک لاٹھی لایا، اس کے سرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا لٹک رہا تھا، اس نے کہا: خبردار! یہی جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد کپڑے کے وہ ٹکڑے ہیں، جن کے ساتھ عورتیں اپنے بال زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … خاتون کا اپنے بالوں میں کوئی ایسی چیز داخل کرنا یا ملانا منع ہے، جس سے اس کا مقصود یہ ہو کہ اس کے بال زیادہ نظر آئیں، یہ جھوٹ اور خلافِ فطرت چیز ہو گی، البتہ بالوں کو قابو میں رکھنے کے لیے پراندہ وغیرہ لگانا جائز ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، لیکن شرط یہی ہو کہ عورت کا مقصد یہ ہو کہ بال قابو میں رہیں، یا اس کا مقصد زینت ہو، ضروری یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی جعل سازی اور دھوکا دہی نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16968»