حدیث نمبر: 8137
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیا یہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت میں کمر بستہ ہوجاتے۔

وضاحت:
فوائد: … وقار، احترام، اکرام اور نکاح کے حرام ہونے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ماؤں کی طرح ہیں، چونکہ نکاح کا حکم تو مردوں کے لیے ہے، اس لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آپ کو خواتین کی بہن ظاہر کر رہی ہیں، یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال امہات المؤمنین کا یہ حکم نسب کی وجہ سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8137
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي ويزيدَ بنِ مرة، ولجھالة لميس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25649»