الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَاب مَا جَاءَ فِي وَصْلِ الشَّعْرِ وَالدُّهَنِ باب: خواتین کے لیے زینت وغیرہ کی جائز اور ناجائز صورتوں کے ابواب¤بال ملانے اور تیل لگانے کا بیان
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ عَنْ لَمِيسَ أَنَّهَا قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ لَهَا الْمَرْأَةُ تَصْنَعُ الدُّهْنَ تَتَحَبَّبُ إِلَى زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَمِيطِي عَنْكِ تِلْكَ الَّتِي لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهَا قَالَتْ وَقَالَتْ امْرَأَةٌ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنِّي لَسْتُ بِأُمِّكُنَّ وَلَكِنِّي أُخْتُكُنَّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْلِطُ الْعِشْرِينَ بِصَلَاةٍ وَنَوْمٍ فَإِذَا كَانَ الْعَشْرُ شَمَّرَ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ وَشَمَّرَ۔ لمیس سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ ایک عورت خاوند کے ہاں محبت حاصل کرنے کے لئے تیل لگاتی ہے کہ چہرہ زیادہ صاف ہوجائے تو کیا یہ لگا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا: اسے خود سے دور رکھو، اللہ تعالیٰ اس خاتون کی طرف نہیں دیکھتے، جو یہ لگاتی ہے۔ ایک اور عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے اماں! سیدہ نے کہا: میں تمہاری ماں نہیں ہوں، تمہاری بہن ہوں، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رمضان کے پہلے) بیس دنوں نماز بھی ادا کرتے اور سوتے بھی تھے، لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو تہبند مضبوط کرلیتے اور عبادت میں کمر بستہ ہوجاتے۔