حدیث نمبر: 8134
عَنْ مَسْرُوقٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْوَاصِلَةِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ قَالَ فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ نَعَمْ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مَا حَفِظْتِ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) مسروق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس نے کہا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ بال ملانے والی کو روکتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، روکتا ہوں! اس نے کہا: کیا تم اس چیز کو اللہ تعالیٰٰ کی کتاب میں پاتے ہو یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا:میں اللہ کی کتاب میں بھی پاتا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی سنا ہے، اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم!میں نے اول تا آخر قرآن پاک کو بغور پڑھا ہے، لیکن اس میں تو یہ موجود نہیں۔ انھوں نے کہا: کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس نے کہا: جی ہاں، پڑھی ہے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے: اگر میں جس چیز سے منع کرتا ہوں، خود اس کو کروں تو پھر میں نے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے (سیدنا شعیب علیہ السلام ) کی نصیحت کو یاد نہیں رکھا، انھوں نے کہا تھا، (جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أُرِیدُ أَنْ أُخَالِفَکُمْ إِلٰی مَا أَنْہَاکُمْ عَنْہُ} … میرا یہ ارادہ نہیں ہے کہ میں جس چیز سے تمہیں منع کرتا ہوں، خود اس کی مخالفت کروں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8134
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3945»