حدیث نمبر: 8133
عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ امْرَأَةً فِي الْبَيْتِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَتْ إِنِّي لَأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ فَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ بَلَى قَالَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَتْ إِنِّي لَأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَجَاءَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا قَالَ لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ لَمْ تُجَامِعْنَا قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أُمِّ يَعْقُوبَ سَمِعَهُ مِنْهَا فَاخْتَرْتُ حَدِيثَ مَنْصُورٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے گودنے والی، گدوانے والی، بال اکھڑوانے والی اور حسن اختیار کرنے کے لئے دانتوں میں فاصلہ بنانے والیوں، جو کہ اللہ تعالی کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سب پر لعنت کی ہے، جب یہ بات گھر میں موجودایک ام یعقوب نامی عورت تک پہنچی تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے اس قسم کی عورتوں پر لعنت کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں، جس پر اللہ کی کتاب میں لعنت کی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ اس عورت نے کہا: میں نے تو دو گتوں میں موجود اول تا آخر قرآن پاک پڑھا ہے، اس میں تو ان پرلعنت کا ذکر نہیں ہے، انہوں نے کہا: اگر تم نے قرآن پاک پڑھا ہوتا تو اس میں ضرور پاتی، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی: {مَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا} … رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔ ؟ اس عورت نے کہا: جی کیوں نہیں، پڑھی ہے،پس سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کام سے منع کیا ہے۔ اس عورت نے کہا: میرا خیال ہے کہ تمہارے گھر والے بھی یہ کام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: جاؤ اور دیکھ لو، اس نے دیکھا تو اس کاخیال پورا نہ ہوا، وہاں اس طرح کی کوئی چیز نہ تھی، وہ آئی اور اس نے کہا: تمہارے گھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ہمارے گھر یہ چیزیں دیکھتیں تو ہمارے گھر والے اور میں اکٹھے نہ رہتے۔

وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کو بھی کتاب اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے، جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہوتا تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8133
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5948، ومسلم: 2125 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4129»