حدیث نمبر: 8121
عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا شَابٌّ مُتَأَزِّرٌ بِبُرْدَةٍ لِي مَلْحَاءَ أَجُرُّهَا فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ فَغَمَزَنِي بِمِخْصَرَةٍ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا لَوْ رَفَعْتَ ثَوْبَكَ كَانَ أَبْقَى وَأَنْقَى فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ قَالَ وَإِنْ كَانَتْ بُرْدَةً مَلْحَاءَ أَمَا لَكَ فِي أُسْوَتِي فَنَظَرْتُ إِلَى إِزَارِهِ فَإِذَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ وَتَحْتَ الْعَضَلَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبیدہ بن خلف بیان کرتے ہیں میں مدینہ میں آیا، میں ابھی نوجوان تھا میں نے ایک دھاری دار تہبند باندھ رکھا تھا جوزمین پر کھینچا جا رہا تھا ایک آدمی نے مجھے پا لیا اور مجھے چھڑی لگائی اگر تم یہ کپڑا اوپر اٹھا لو تو تمہارے لئے دیرپابھی ہوگا اور صاف بھی ہو گا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ،میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایک سیاہ و سفید دھاری والی چادر ہے۔ آپ نے فرمایا: اگرچہ یہ سیاہ و سفید چادر ہے لیکن کیا تمہارے لئے میرے اندر بہترین اسوہ نہیں؟ میں نے آپ کے تہبند کی طرف دیکھا تو وہ ٹخنوں سے اوپر اور پنڈلی کے پٹھے کے نیچے تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8121
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف سليمان بن قرم، وجھالة عمة الاشعث، أخرجه الطيالسي: 1190، والترمذي في الشمائل : 113، والنسائي في الكبري : 9682 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23475»