حدیث نمبر: 8113
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ زَيْدٌ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ يَتَقَعْقَعُ يَعْنِي جَدِيدًا فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ عَبْدَ اللَّهِ فَارْفَعْ إِزَارَكَ قَالَ فَرَفَعْتُهُ قَالَ زِدْ قَالَ فَرَفَعْتُهُ حَتَّى بَلَغَ نِصْفَ السَّاقِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّهُ يَسْتَرْخِي إِزَارِي أَحْيَانًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَسْتَ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تکبر سے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے کھینچے گا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر تہبند دیکھا جو کہ زمین پر حرکت کر رہا تھا، نیا ہونے کی وجہ سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبداللہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم عبداللہ ہو تو اپنا تہبند اوپر اٹھالو۔ پس میں نے ٹخنوں سے اوپر اٹھا لیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور اٹھاؤ۔ پس میں نے اور اٹھا لیا حتیٰ کہ نصف پنڈلی تک اٹھا لیا، پھر آپ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جس نے تکبر سے اپنا لباس زمین پر کھینچا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کبھی کبھی میرا تہبند کچھ لٹک سا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث ِ مبارکہ بڑی وضاحت کے ساتھ اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ مسلمان پراپنے ازار کو ٹخنوں سے نیچے نہ لٹکانا واجب ہے،اسے چاہیے کہ وہ اپنے لباس کو ٹخنوں سے اوپر رکھے، اگرچہ اس کا مقصد تکبر نہ ہو۔ اس حدیث میں ان لوگوں کا واضح ردّ کیا گیا ہے، جن کے جبّے زمین پر لگ رہے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ تکبر کی نیت سے نہیں کر رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8113
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3665، 5784، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6340»