الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام باب: لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
حدیث نمبر: 8112
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً وَكَسَا أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً سِيرَاءَ قَالَ فَنَظَرَ فَرَآنِي قَدْ أَسْبَلْتُ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي وَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ كُلُّ شَيْءٍ مَسَّ الْأَرْضَ مِنَ الثِّيَابِ فَفِي النَّارِ قَالَ فَرَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَتَّزِرُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی چادر دی اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دھاری دار ریشمی حلہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نے چادر ٹخنوں کے نیچے لٹکا رکھی ہے، آپ تشریف لائے، میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: اے ابن عمر! لباس کا جو حصہ زمین کو چھوئے گا، وہ دوزخ میں جائے گا۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اس کے بعد اپنا ازار نصف پنڈلی تک رکھتے تھے۔