الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَدُ الْمُسْتَحَبُّ لِلتَّوْبِ وَالْجَائِزِ والحرام باب: لباس کی مستحبّ، جائز اور حرام حد کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ حُلَلِ السِّيرَاءِ أَهْدَاهَا لَهُ فَيْرُوزُ فَلَبِسْتُ الْإِزَارَ فَأَغْرَقَنِي طُولًا وَعَرْضًا فَسَحَبْتُهُ وَلَبِسْتُ الرِّدَاءَ فَتَقَنَّعْتُ بِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَاتِقِي فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ارْفَعِ الْإِزَارَ فَإِنَّ مَا مَسَّتِ الْأَرْضَ مِنَ الْإِزَارِ إِلَى مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ أَرَ إِنْسَانًا قَطُّ أَشَدَّ تَشْمِيرًا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرو ی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ریشم کی ایک پوشاک دی، جو فیروز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِہدیہ دی تھی، میں نے تہبند باندھا تو وہ تو کافی لمبا چوڑا تھا،سو میں نے اسے زمین پر گھسیٹا اور اوپر والی چادر بھی پہن لی اور اس طرح میں نے وجود ڈھانپ لیا ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے کندھے سے پکڑا اور فرمایا: اے عبداللہ! تہبند اٹھا کر رکھو، کیونکہ یہ ٹخنوں سے لے کر زمین تک جتنی مقدار ہے، یہ آگ میں جائے گی۔ عبداللہ بن محمد کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد کسی ایسے انسان کو نہیں دیکھا، جو کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بڑھ کر لباس کو سمیٹ کر رکھنے والا ہو۔