حدیث نمبر: 8108
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ قَالَ فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ قَالَ إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عطاء بن یسار ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہاتھا، جبکہ اس کا ازار اس کے ٹخنوں سے نیچے تک لٹک رہا تھا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو جا اور وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: تو جا اور پھر وضو کر۔ پس وہ گیا اور وضو کر کے آ گیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کیا ہے کہ آپ نے اس کو وضو کرنے کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے تو خاموش ہو گئے، لیکن پھر فرمایا: اس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جس نے تہبند نیچے لٹکایا ہوا ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8108
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي جعفر الانصاري المدني، أخرجه ابوداود: 638، 4086 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16745»