الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الشُّهْرَةِ وَالْإِسْبَالِ وَ وَعِيدِ مَنْ فَعَلَ ذلِكَ باب: لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت¤اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ فَأَقْبَلَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ لَهُ فَجَعَلَ يَمِيسُ فِيهَا حَتَّى قَامَ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ عِنْدَكَ فِي حُلَّتِي هَذِهِ مِنْ فُتْيَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَقَالَ حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ بَيْنَ بُرْدَيْنِ فَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمَرَ الْأَرْضَ فَبَلَعَتْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيَتَجَلْجَلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اذْهَبْ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ حسن کہتے ہیں:ایک دفعہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اپنی مجلس میں تھے، اس پر ایک حلہ تھا اور وہ اس میں اترا کے چل رہا تھا، یہاں تک کہ وہ سیدنا بو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر رکا اوراس نے کہا: اے ابو ہریرہ! میری اس پوشاک کے بارے میں آپ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: مجھے میرے صادق و مصدوق خلیل ابو قاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ تم سے پہلے ایک آدمی دو چادروں میں اترا کر چلتا ہواجا رہاتھا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہوئے اور زمین کو حکم دیا، پس اس نے اسے نگل لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جائے گا۔ اے آدمی توبھی قیامت کے دن تک چلتا جا۔