الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ النَّهْي عَنِ الشُّهْرَةِ وَالْإِسْبَالِ وَ وَعِيدِ مَنْ فَعَلَ ذلِكَ باب: لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت¤اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي مَجْلِسِ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ فَمَرَّ فَتًى مُسْبِلًا إِزَارَهُ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَعَاہُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ بَنِي بَكْرٍ فَقَالَ: تُحِبُّ أَنْ يَنْظُرَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اِرْفَعْ إِزَارَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْمَأَ بِإِصْبَعِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ يَقُولُ: ((مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الْخُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))۔ مسلم بن یناق کہتے ہیں:میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ عبداللہ کے بیٹوں کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قریشی نوجوان کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے اپنا تہبند نیچے لٹکایا ہواتھا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلایا اور کہا: تیرا کس قبیلہ سے تعلق ہے؟ اس نے کہا: بنو بکر سے، انھوں نے کہا:کیا تو پسند کرتا ہے کہ روز قیامت اللہ تعالیٰ تجھے دیکھے؟ اس نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: تو پھر اپنا تہبند اوپر کر لو، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین پرکھینچا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔