حدیث نمبر: 8095
عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَيْهِ بُرْدُ إِسْتَبْرَقٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا حِينَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ قَالَ أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ لَا فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شعبہ سے مروی ہے کہ سیدنا مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تکلیف کی وجہ سے ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس گئے، ان پر ریشم کی چادر تھی، میں (مسور) نے کہا، اے ابو عباس! یہ کپڑا کیوں؟ انھوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: یہ تو ریشم ہے، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو پتہ نہیں تھا، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑائی اور تکبر کی وجہ سے ریشم سے منع کیا ہے اور ہم الحمد اللہ ایسے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: تو آتش دان میں یہ تصویریں کیسی ہیں؟ انھوں نے کہا: تم دیکھ نہیں رہے کہ ہم ان کو آگ میں جلانے لگے ہیں۔ جب مسور نکل کر چلے گئے تو انھوں نے کہا: یہ کپڑا مجھ سے اتار دو اور ان تصوریروں کے سرکاٹ دو، لوگوں نے کہا: اے ابن عباس! اگر آپ اسے بازار میں لے جائیں تو یہ سروں سمیت جلدی اور اچھی قیمت میں فروخت ہو جائیں گے، انھوں نے کہا: نہیں، پھر ان تصویروں کے سر کاٹنے کا حکم دیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کپڑے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، جس کا بانا ریشم کا ہو یا اس پر نقش و نگار ریشم کا ہوا ہو، اگرچہ وہ چار انگلی سے زائد ہے، بہرحال یہ ان کی ذاتی رائے ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۸۰۴۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8095
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شعبة بن دينار سييء الحفظ، أخرجه الطيالسي: 2730، والطبراني: 12218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2932»