الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعُودُهُ قَالَ فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ لِمَ تَنْتَزِعُهُ قَالَ لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي۔ عبید اللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیاِ ان کی تیمارداری کیِ ان کے پاس سہل بن حنیف کو پایا، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک انسان کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے چادر نکالی، سیدنا سہل نے ان سے کہا: اسے کیوں نکالتے ہو؟ کہا اس میں تصویریں ہیں اور تصویروں کے بارے میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، سہل نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑے میں تصویر کو مستثنیٰ کیا ہے، انھوں نے کہا: ٹھیک ہے، لیکن میرا دل اسی طرح مطمئن ہے۔