حدیث نمبر: 8093
عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ قَالَ بُسْرٌ ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا وَيَذْكُرِ الصُّوَرَ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ قَالَ هَاشِمٌ أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ قَالَ إِلَّا رَقْمٌ فِي ثَوْبٍ وَكَذَا قَالَ يُونُسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زید بن خالد سے مروی ہے کہ صحابیٔ رسول سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر ہو۔ بسر کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہو گئے اور ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ لگا ہوا تھا، اس میں تصویر تھی، میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پروردہ عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں گزشتہ دنوں میں تصویروں کی مذمت بیان نہیں کی تھی؟ لیکن اب ان کے دروازے پر پردہ تصویر والا ہے، عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار کی اجازت ہے؟ ہاشم نے کہا: کیا زید نے ہمیں گزشتہ دنوں بتایا نہیں تھا کہ تصویر نا جائز ہے تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے یہ نہیں سنا تھا کہ کپڑے میں نقش و نگار مستثنی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: جمع و تطبیق کی صورت یہ ہے کہ (یہ جو کپڑے میں نقش و نگار کو مستثنی قرار دیا گیا ہے) اس سے مراد غیر ذی روح کی تصویر ہے، جیسے درخت وغیرہ۔ کیونکہ یہ حدیث قریب ہی گزری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تصویر والے کپڑے کو چاک کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8093
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5958، ومسلم: 2106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16456»