حدیث نمبر: 8089
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اسْتَتَرْتُ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَلَمَّا رَآهُ تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَقَالَ مَرَّةً تَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَهَتَكَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ أَوْ يُشَبِّهُونَ قَالَ سُفْيَانُ سَوَاءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے، جبکہ میں نے تصاویر والا ایک پردہ لٹکا رکھا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ کا چہرہ غصے سے تبدیل ہوگیا اور اس پردے کو اپنے دست مبارک سے پھاڑ ڈالا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں روزِ قیامت لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان کو ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی تصویریں بناتے ہیں)۔ امام سفیان نے کہا: دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8089
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5954، ومسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24582»