الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 8087
عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي دَقِرَةُ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ قَالَتْ كُنَّا نَطُوفُ بِالْبَيْتِ مَعَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَرَأَتْ عَلَى امْرَأَةٍ بُرْدًا فِيهِ تَصْلِيبٌ فَقَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ اطْرَحِيهِ اطْرَحِيهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى نَحْوَ هَذَا قَضَبَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام عبدالرحمن دقرہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہی تھیں، انہوں نے ایک عورت پر ایسی چادر دیکھی، جس میں صلیب کا نشان تھا۔ سیدہ نے کہا:اس کو پھینک دو، اس کو پھینک دو،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس کو دیکھتے تو کاٹ دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صلیب کی تصویر کا حکم وہ نہیں ہے، جو ذی روح چیزوں کی تصاویر کا ہے، چونکہ صلیب کے پیچھے ایک غلط نظریہ ہے، اس لیے مسلمانوں کے گھروں میں اس کا نشان یا اس کی تصویر بھی نظر نہیں آنی چاہیے۔