حدیث نمبر: 8085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِي هَذَا فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَهُ قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارا ایک پردہ تھا، اس میں پرندے کی تصویر تھی، جب اندر آنے والا آتا تو وہ اسے سامنے نظر آتا تھا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اسے پھیر دو، میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس کو دیکھتاہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک چادر تھی، اس پر ریشم کے نشانات تھے، ہم وہ پہن لیتی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: تصویر والے اس پردے کو تصویر کی حرمت سے پہلے پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوتے اور اس کو دیکھتے تھے اور اس کو انکار نہیں کرتے تھے، (بعض میں اس طرح کی تصویریں حرام ہو گئیں)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8085
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2107 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24722»