حدیث نمبر: 8083
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ كَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَيْهِ وَصِيَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهَا السِّتْرُ الَّذِي يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهَا أَحْدَثَتْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8083
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اثر اسناده منقطع، محمد بن علي الباقر، ھو حفيد الحسين بن علي بن ابي طالب، ولد سنة 56ھـ ومات سنة114ھـ، وقيل غير ذالك ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26953»