الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 8083
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ كَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَيْهِ وَصِيَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهَا السِّتْرُ الَّذِي يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهَا أَحْدَثَتْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔