حدیث نمبر: 8082
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ قَالَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا فَإِذَا هُوَ بِمِسْحٍ عَلَى بَابِهَا وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَنَزَعَتِ الْقَلْبَيْنِ مِنَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَطَعَتْهُمَا فَبَكَى الصَّبِيَّانِ فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو حسب ِ دستور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے، اچانک نظر پڑی تو ان کے دروازے پر پردہ دیکھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے بغیر واپس تشریف لے گئے اور ان کے پاس داخل نہ ہوئے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل نہیں ہوئے، انہوں نے وہ پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار لئے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بچے رونے لگے، انھوں نے دونوں میں ان کے حصے بانٹ دئیے، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چاندی بچوں سے لے لی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! یہ بنو فلاں کے پاس لے جاؤ اور ان سے ان کے عوض فاطمہ کے لیے حیوان کے پٹھوں کا ہار اور عاج کے دو کنگن بچوں کے لئے خرید لاؤ، یہ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نیکیوں کو دنیا میں ہی استعمال کر لیں۔

وضاحت:
فوائد: … عاج سے مراد سمندری کچھوے کی کمر کی ہڈیاں ہیں، نہ کہ ہاتھی دانت۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8082
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حميد الشامي و سليمان المنبھي مجھولان، أخرجه ابوداود: 4213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22721»