حدیث نمبر: 8081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا قَالَ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ مَا لَكِ فَقَالَتْ جَاءَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا فَقَالَ وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ فَقَالَ قُلْ لَهَا تُرْسِلُ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر پردہ پایا، پس اس وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوئے، حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں اور سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر نہ جائیں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف تشریف تو لائے لیکن میرے پاس گھر میں داخل نہیں ہوئے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات بہت گراں گزری ہے کہ آپ تشریف لے بھی گئے، لیکن گھر میں داخل نہ ہوئے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرا نقش و نگار سے کیا واسطہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ سے کہو کہ یہ کپڑا بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیںچاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کادل دنیوی نعمتوں میں لگ جائے، یہی وجہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے غلام اور خادم کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کی بجائے رات کو سوتے وقت تسبیحات کا ایک عمل بتا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4727»