الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا، اس میں تصوریں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں آپ کے چہرۂ مبارک سے ناراضگی بھانپ گئی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس تکیے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تصویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویریں بنائی تھیں، اب ان کو زندہ کرو، اور جس گھر میں یہ تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔