حدیث نمبر: 8079
عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ اتْبَعْهُ فَقُلْ لَهُ مَا رَجَعَكَ قَالَ فَتَبِعَهُ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کامیزبان بنا،انھوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں (تو بہتر ہو گا)، سو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، آپ ابھی دروازے کی چوکھٹ پر ہی تھے کہ گھر کے کونے میں لٹکایا ہوا ایک پردہ دیکھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پر دہ دیکھا، تو واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل کر پوچھو کہ آپ کس چیز کی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ واپس کیوں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس طرح کے مزین گھر میں داخل ہو۔

وضاحت:
فوائد: … ضرورت کے مطابق پردہ لگانا جائز ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آل کو سادگی پر برقرار رکھنا چاہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا کہ یہ دنیوی زینت و آرائش سے دور رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22267»