الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ باب: گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں تصویروں سے اور اس سے منع فرمایا کہ آدمی تصویریں بنائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہ ہوئے، جب تک اس میں موجود تمام تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ایک روایت میں ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑا بھگویا اور ان تمام تصویروں کو مٹا ڈالا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک تصویر بھی باقی نہیں تھی۔