الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ جَرَسٌ أَوْ جُلْجُلْ ولا تَصْحَبُ رَكْبًا فِيهِ ذَلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اِتِّخَاذِهِ باب: اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے¤اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے¤ممانعت کا بیان
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا قَالَتْ قِفْ بِي فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَاءَهَا قَالَتْ أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ وَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے ان کو بیان کیا اور اس نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری چلایا کرتا تھا، وہ جب بھی اپنے سامنے گھنٹی یا گھونگرو کی آواز سنتیں تو کہتیں: ٹھہر جاؤ،پس میں اتنی دیر ٹھہرا رہتا، جب تک ان کی آواز آنا بند نہ ہو جاتی اور اگر وہ اپنے پیچھے سے گھنٹی کی آواز سنتیں تو کہتیں: تیزی سے نکل جاؤ حتی کہ یہ آواز سنائی نہ دے، سیدہ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گھونگرو وغیرہ کی) اس آواز کے پیچھے شیطان ہوتا ہے۔