حدیث نمبر: 8073
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلًى لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا قَالَتْ قِفْ بِي فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَاءَهَا قَالَتْ أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ وَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے ان کو بیان کیا اور اس نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سواری چلایا کرتا تھا، وہ جب بھی اپنے سامنے گھنٹی یا گھونگرو کی آواز سنتیں تو کہتیں: ٹھہر جاؤ،پس میں اتنی دیر ٹھہرا رہتا، جب تک ان کی آواز آنا بند نہ ہو جاتی اور اگر وہ اپنے پیچھے سے گھنٹی کی آواز سنتیں تو کہتیں: تیزی سے نکل جاؤ حتی کہ یہ آواز سنائی نہ دے، سیدہ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گھونگرو وغیرہ کی) اس آواز کے پیچھے شیطان ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8073
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائشة، وعبد الكريم غير منسوب، فان كان ابنَ مالك الجزري، فھو ثقة، وان كان ابنَ ابي المخارق البصري فھو ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25703»