حدیث نمبر: 8071
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا جَلَاجِلُ يُصَوِّتْنَ فَقَالَتْ لَا تُدْخِلُوهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنْ تَقْطَعُوا جَلَاجِلَهَا فَسَأَلَتْهَا بُنَانَةُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ وَلَا تَصْحَبُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد الرحمن بن حیان انصاری کی آزاد کردہ لونڈی بنانہ رحمۃ اللہ علیہاسے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ ان کے پاس ایک لڑکی کو لایا گیا، اس پر گھونگرو تھے، جن کی آواز آ رہی تھی، سیدہ نے کہا: اس کو میرے پاس نہ آنے دو، ہاں اگر اس کی جھانجھریں کاٹ دو تو پھر آ سکتی ہے، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو اور فرشتے اس قافلے کے ساتھ بھی نہیں چلتے جس میں گھونگرو ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8071
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن جريج مدلس ولم يصرح بالتحديث، وبنانة لا تعرف، وقوله ولا تصحب رفقة فيھا جرس صحيح بالشواھد، أخرجه ابوداود: 4231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26580»