الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ جَرَسٌ أَوْ جُلْجُلْ ولا تَصْحَبُ رَكْبًا فِيهِ ذَلِكَ وَالنَّهْي عَنْ اِتِّخَاذِهِ باب: اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنٹی یا گھونگرو ہو، نیز فرشتے¤اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے، جس میں یہ چیزیں ہوں اور ان چیزوں کا اہتمام کرنے سے¤ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8070
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ رُفْقَةٌ لِأُمِّ الْبَنِينَ فِيهَا أَجْرَاسٌ فَحَدَّثَ سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رَكْبًا مَعَهُمُ الْجُلْجُلُ فَكَمْ تَرَى فِي هَؤُلَاءِ مِنْ جُلْجُلٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو بکر بن ابی موسیٰ کہتے ہیں میں سالم بن عبداللہ بن عمرکے پاس آیا، اتنے میں وہاں سے ام بنین کا قافلہ گزرا، اس میں گھونگرو تھے، سالم نے اپنے باپ سیدنا عبدا للہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے، جس میں گھونگرو ہو۔ اور تم دیکھو کہ ان لوگوں میں کتنے زیادہ گھونگرو ہیں۔