حدیث نمبر: 8069
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: میں رات آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تھا، مجھے اس گھر میں جس میں آپ تشریف فرما تھے، داخل ہونے میں رکاوٹ یہ تھی کہ گھر میں ایک آدمی کی مورتی تھی اور گھر میں ایک باریک پردہ تھا، سو آپ حکم دیں کہ تصویروں کے سر کاٹ دیئے جائیں، تاکہ وہ درخت کی مانند ہو جائیں اور پردے کے بارے میں حکم دیں، ان کو کاٹ کر اس سے دو تکیے بنا لے جائیں، جن کو روندا جائے اور کتے کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو نکال دیا جائے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا، وہ کتے کا بچہ دراصل سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا تھا، جو سامان والی چارپائی کے نیچے پڑا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … تصویر اور کتے کی وجہ سے داخل نہ ہونے والے فرشتے وہ ہوتے ہیں، جو رحمت اور برکت والے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8069
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4158، والترمذي: 2806 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8045 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8032»