الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ صُورَةٌ أَوْ كَلْبٌ أَوْ جُنُبٌ باب: اس چیز کا بیان کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں تصویر، یا کتا، یا جنابت والا آدمی ہو
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ تُوطَآنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: میں رات آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تھا، مجھے اس گھر میں جس میں آپ تشریف فرما تھے، داخل ہونے میں رکاوٹ یہ تھی کہ گھر میں ایک آدمی کی مورتی تھی اور گھر میں ایک باریک پردہ تھا، سو آپ حکم دیں کہ تصویروں کے سر کاٹ دیئے جائیں، تاکہ وہ درخت کی مانند ہو جائیں اور پردے کے بارے میں حکم دیں، ان کو کاٹ کر اس سے دو تکیے بنا لے جائیں، جن کو روندا جائے اور کتے کے بارے میں حکم دیں کہ اس کو نکال دیا جائے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا، وہ کتے کا بچہ دراصل سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کا تھا، جو سامان والی چارپائی کے نیچے پڑا تھا۔