حدیث نمبر: 8064
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ كُنْتُ أُصَلِّي فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ فَخَرَجْتُ فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ وَلَا تِمْثَالٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں رات دن میں میرا دو مرتبہ آنا جانا تھا، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوتا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھنکارتے تھے، ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ ہے کہ فرشتہ نے ایک نیا حکم دے دیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہاتھا، میں نے گھر میں حرکت سی سنی، جب میں باہر آیا تو وہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے کہا: میں اس رات آپ کے انتظار میں تھا، آپ کے گھر میں ایک کتا تھا، اس لئے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا، ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ، جنبی اور تصویر ہو۔

وضاحت:
فوائد: … جنبی آدمی کی وجہ سے رحمت کے فرشتوں کا گھر میں داخل نہ ہونا، اس بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، نیز بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کو صبح تک مؤخر بھی کر دیتے تھے، اگرایسی روایت کسی محقق کے نزدیک صحیح ہو تو اس سے مراد وہ شخص ہو گا جو غسل جنابت لیٹ کرنے کو اپنی عادت بنا لیتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ جنبی لیا جائے، جو رات کو وضو کر کے نہیں سوتا، کیونکہ امام نسائی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر یہ باب قائم کیا ہے: باب فی الجنب اذا لم یتوضأ (اس اس جنبی کا بیان جو وضو نہیں کرتا)۔ واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8064
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 608»