حدیث نمبر: 8062
عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَسًا مِنْ رِقَاعٍ فِي يَدِ جَارِيَةٍ فَقَالَ أَلَا تَرَى هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَعْمَلُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک بچی کے ہاتھ میں کپڑوں کے ٹکڑوں کا بنا ہوا ایک گھوڑا دیکھا اور کہا: کیا تم یہ نہیں دیکھ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی یہ کام کرتا ہے، جس کا قیامت کے دن کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ذی روح چیز کی تصویر بنانا حرام ہے، وہ انسان ہو، جانور ہو، پرندہ ہو یا درندہ ہو، اس بارے میں شریعت نے بہت، بلکہ ہمارے اندازے اور سوچ سے بڑھ کر مذمت کی ہے، لیکن عصر حاضر کے مزاج کا کیا بنے گا، ہر آدمی اپنی مووی اور البم بنانے کا عشق کی حد تک شوق رکھتا ہے، رہی سہی کمی کیمرہ والے موبائلوں نے پوری کر دی ہے اور کوئی آدمی سنجیدگی سے شرعی فیصلہ سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8062
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي من قريش و أبيه، ثم ھذا الخبر يخالف ما ثبت من حديث عائشة رضي الله عنها ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7867»