الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ باب: تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8058
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ فَقُلْتُ أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا قَالَ لَا إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔