الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ باب: تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الْدُّنْيَا يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ۔ سیدنا نضر بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جبکہ وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے اور اپنے فتووں میں کوئی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے، ان کے پاس ایک عراقی آدمی آیا اور اس نے کہا: میں عراق کا آدمی ہوں، میں یہ تصاویر بناتا ہوں، اس سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو یا تین بار کہا: قریب ہو جاؤ، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں تصویر بنائی، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے، جبکہ وہ روح پھونک نہیں سکے گا۔