الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ باب: تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک ہوتارہے گا، جب تک اس میں روح نہ پھونک دے، جبکہ وہ روح نہیں پھونک سکے گا، جو خواب میں تکلف کا مظاہرہ کرے گا، اسے روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک دیا جاتا رہے گا، جب تک کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ نہ لگا دے اور جو آدمی ان لوگوں کی بات سنے گا، جو اس سے دور بھاگتے ہوں ،یعنی اس کو نہ سنانا چاہتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں (سیسہ ڈال کر) اس کو عذاب دیا جائے گا۔