حدیث نمبر: 8049
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ ان سے یہ بات پوچھوں کہ آپ کی طرف سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہو: کپڑے میں علامات اور نقش و نگار لگانے کو، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کو اور رجب کے سارے روزے رکھنے کو۔ انہوں نے جواباً کہا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ میں سارے ماہِ رجب کے روزے نہ رکھوں، تو پھر اس کا روزہ کیسے ہوگا جو ہمیشہ کے روزے رکھے، جو تم نے کپڑے میں علامات کا ذکرکیا ہے کہ میں اس سے منع کرتا ہوں اس بارے میں گزارش ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔

وضاحت:
فوائد: … اگر کپڑے پر ریشم کے ذریعے نقش و نگار کیا جائے اور اس ریشم کی مقدار چار انگلیوں سے زائد ہو تو اس کپڑے کا استعمال حرام ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8049
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2069 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 181»