الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
باب إباحة اليسير مِنَ الْحَرِيرِ كَالعَلَم وَالرقعه وَنَحْوِهَا باب: کوئی نقش بنوانے یا پیوند وغیرہ لگانے کے لیے ریشم کی معمولی مقدار کے جواز کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صَوْمِ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الْدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا تاکہ ان سے یہ بات پوچھوں کہ آپ کی طرف سے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا تک یہ بات پہنچی ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام قرار دیتے ہو: کپڑے میں علامات اور نقش و نگار لگانے کو، سرخ رنگ کے ریشمی گدیلوں کو اور رجب کے سارے روزے رکھنے کو۔ انہوں نے جواباً کہا: جو تم نے یہ کہا ہے کہ میں سارے ماہِ رجب کے روزے نہ رکھوں، تو پھر اس کا روزہ کیسے ہوگا جو ہمیشہ کے روزے رکھے، جو تم نے کپڑے میں علامات کا ذکرکیا ہے کہ میں اس سے منع کرتا ہوں اس بارے میں گزارش ہے میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہنے گا۔