حدیث نمبر: 8039
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ جَاءَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ فَاسْتَأْذَنُوا عَلَى أَبِي الْأَشْهَبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُمْ فَقَالُوا حَدِّثْنَا قَالَ سَلُوا فَقَالُوا مَا مَعَنَا شَيْءٌ نَسْأَلُكَ عَنْهُ فَقَالَتْ ابْنَتُهُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ سَلُوهُ عَنْ حَدِيثِ عَرْفَجَةَ بْنِ أَسْعَدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے سنا، انھوں نے کہا: محدثین کا ایک گروہ آیا اور انھوں نے ابو اشہب کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دی، وہ آئے اور انہوں نے ابو اشہب سے کہا: ہمیں حدیث بیان کرو، انہوں نے کہا: تم سوال کرو،انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو کوئی سوال نہیں ہے، پھر پردہ کے پیچھے سے ان کی بیٹی نے کہا: ان سے عرفجہ بن اسعد والی حدیث کے بارے میں پوچھو، جن کا ناک کلاب والے دن کٹ گیا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ شریعت ِ اسلامیہ کا حسن ہے کہ اس میں بندے کی ضروریات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے، جہاں مرد کے لیے سونے کا استعمال بطورِ زینت منع ہے، وہاں بطورِ ضرورت جائز بھی ہے، مثلا ہلنے والے دانتوں کوسونے کی تار سے باندھنا، سونے کا دانت لگوانا، ناک کی طرح کا عضو کٹ جانے کی صورت میں وہ لگوانا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20542»