حدیث نمبر: 8035
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيرَاءَ تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوُفُودِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَبِيعَهَا أَوْ لِتَكْسُوهَا قَالَ فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا مِنْ أُمِّهِ بِمَكَّةَ زَادَ فِي أُخْرَى قَالَ سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا دیکھا، جو مسجد کے دروازے کے نزدیک فروخت کیا جا رہا تھا، سو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے اور مختلف وفود سے ملاقات کرتے وقت پہن لیا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی جوڑے لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی ان میں سے ایک جوڑا دے دیا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ دے رہے ہیں، جبکہ آپ نے اس کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا کہ تم اسے پہنو، میں نے تو اس لیے دیا ہے کہ اسے فروخت کردو یا (جس کے لئے پابندی نہیں ہے) اسے پہنا دو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ مکہ میں رہنے والے اپنے ایک مشرک اخیافی بھائی کو دے دیا تھا۔ سیدنا سالم کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس حدیث کی وجہ سے ریشم سے بنی ہوئی دھاری والے کپڑے کو پہننا مکروہ جانتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافر رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا، ان کے ساتھ احسان کرنا اور ان کو تحفہ دینا جائز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 8035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 886، 2612، ومسلم: 2068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5797»