الفتح الربانی
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے مسائل
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي جَوَاز هِمَا لِلنِّسَاءِ دُونَ الرجال باب: عورتوں کے لیے سونے اور ریشم کی رخصت کا بیان، نہ کہ مردوں کے لیے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُلَّةِ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَتَلْبَسَهَا إِذَا قَدِمَ عَلَيْكَ وُفُودُ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ ثَلَاثٍ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَإِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ وَإِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ فَأَتَى عُمَرُ بِحُلَّتِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ قَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا أَوْ تُشَقِّقَهَا لِأَهْلِكَ خُمُرًا قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ وَأَتَاهُ أُسَامَةُ وَعَلَيْهِ الْحُلَّةُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبِيعَهَا مَا أَدْرِي أَقَالَ لِأُسَامَةَ تُشَقِّقُهَا خُمُرًا أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ أَنَّهُ سَمِعَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ وَجَدَ عُمَرُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ریشم کا جوڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ یہ جوڑا خرید لیں اور جب لوگوں کے وفد آپ کے پاس آئیں گے تو آپ یہ زیب ِ تن کیا کریں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہی پہن سکتا ہے، جس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ریشم کے تین جوڑے لائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک جوڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو، ایک جوڑا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور ایک جوڑا سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو وہ حلہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ جوڑا میرے پاس بھیج دیا ہے، جبکہ اس سے پہلے آپ اس کے بارے میں ناپسندید گی کااظہارکر چکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ریشم کا یہ جوڑا تمہاری طرف اس لیے بھیجا ہے کہ اسے فروخت کرلو یا پھر اس کے دوپٹے بنا کر اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دو۔ لیکن سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ جوڑا زیب تن کر کے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میں نے یہ تمہارے پاس اس لئے تو نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے اس لئے بھیجا تھا کہ اسے فروخت کر لو۔ راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا یا نہیں کہ اس کے دوپٹے بنا لو۔